Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل کر کے نماز پڑھی بعد میں محسوس ہوا کہ دانتوں میں کچھ رہ گیا ہے، تو کیا حکم ہے
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2127-Web
- Issued
- 21 رجب المرجب 1446ھ /22 جنوری 2025ء
Question
غسل کر کے نماز پڑھی بعد میں محسوس ہوا کہ دانتوں میں کچھ رہ گیا ہے ، تو کیا حکم ہے دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی پر غسل فرض ہوا، پھر اس نے اچھے انداز میں مطمئن ہو کر غسل کیا ، بعد غسل نماز پڑھی ، نماز کے بعد اس نے محسوس کیا کہ دانت میں کچھ رہ گیا ہے ، اس صورت میں اس کا غسل اور نماز ہو گئی یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
گوشت کے ریشے یا روٹی وغیرہ کے ذرات لگے ہوں جو دانت یا جلد تک پانی پہنچنے سے مانع ہوں ، لیکن انہیں بآسانی زائل کیا جاسکتا ہو تو اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر غسل سے پہلے اس کا علم ہو جائے ، تو اس کو زائل کرنالازم ہے ، اور اگر غسل سے پہلے پتا نہیں چلا اور غسل کر کے نمازیں بھی ادا کر لیں، تو ادا کی گئی نمازیں ہو گئیں ، البتہ جب اس ریشے وغیرہ کے لگے ہونے کا علم ہو گا اس وقت اس کو زائل کر کے اس کے نیچے دانت یا جلد پر پانی بہانا لازم ہوگا، پورا غسل دوبارہ کرنا ضروری نہیں ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.