Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک نماز کے بعد اپنے لئے اور دوسری نماز کے بعد اپنے گھر والوں کے لئے دعا کرنا
Question
ایک نماز کے بعد اپنے لئے اور دوسری نماز کے بعد اپنے گھر والوں کے لئے دعا کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں روزانہ صبح کی نماز کے بعد دعا میں صرف اپنے لیے دعا کرتا ہوں اور ظہر کی نماز کے بعد صرف اپنے گھر والوں کے لیے دعا کرتا ہوں ۔ کیا اس طرح دعا کرنا ٹھیک ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر آپ اس کو نشر عالازم نہیں سمجھتے، تو اس طرح دعا کرنا اگرچہ جائز ہے مگر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ تنہا اپنے لیے دعا نہ کرے ، دوسروں کے لیے بھی دعا کرے کہ ایسی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے ، اور دیگر فضائل بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ نیز جب دوسروں کے لیے دعا کریں تو اپنے لیے بھی کر لیا کریں۔ فضائل دعا میں ہے : "ادب ۴۰ : جب اپنے لیے دعا مانگے تو سب اہل اسلام کو اس میں شریک کرلے ۔ قال الرضاء : کہ اگر یہ خود قابل عطا نہیں کسی بندے کا طفیلی ہو کر مراد کو پہنچ جائے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.