Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حکومت کی طرف سے بطورِ معاون حج پر جانے والے کا فرض حج
- Fatwa no.
- 2124-Web
- Issued
- 01 شعبان المعظم 1446هـ / 31 جنوری 2025. دام الافيا اهلسنت
Question
حکومت کی طرف سے بطورِ معاون حج پر جانے والے کا فرض حج دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) حکومت پاکستان کو حج کے لیے معاونین درکار ہیں، اگر کوئی شخص جس پر حج فرض نہ ہو، وہ بطور معاون چلا جائے اور حج کر آئے ، تو کیا یہ جائز ہے اور اس کا فرض حج ادا ہو جائے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر حکومتی پالیسی کے مطابق جس نے حج نہ کیا ہو وہ بھی معاون بن سکتا ہے جس میں کسی قسم کا دھوکہ ، جھوٹ وغیرہ کا عصر نہ پایا جائے تو اس صورت میں حج پر جانا ، جائز ہے اور اگر فرض حج کی نیت سے حج کر لیا تو فرض بھی ادا ہو جائے گا جبکہ اس کو حج بدل کے طور پر نہ بھیجا گیا ہو۔ البتہ اگر حکومتی پالیسی کے مطابق وہی شخص معاون بن سکتا ہو جس نے پہلے سے حج کیا ہو، تو اب ایسی صورت میں بطورِ معاون حج پر جانے کے لئے جھوٹ بولے گا کہ میں نے حج کیا ہوا ہے تو گنہگار ہوگا ۔ یونہی ایسے کاغذات میں دستخط کرنا یا خود کو ایسا ظاہر کرنا کہ میں نے حج کیا ہوا ہے ، یہ بھی جائز نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.