Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
باوضو شخص نماز پڑھنے مسجد آئے، تو کیا کلی کرنا پاؤں دھونا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 2121-Web
Question
باوضو شخص نماز پڑھنے مسجد آئے ، تو کیا کلی کرنا پاؤں دھونا ضروری ہے دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) با وضو شخص اگر نماز پڑھنے کے لیے مسجد آئے تو کیا اسے کلی کرنا یا پاؤں دھونا ضروری ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر پہلے سے ہی باوضو ہے ، تو مسجد آکر پاؤں دھونا یا کلی کرنا ضروری نہیں ، ہاں اگر پاؤں ایسے گندے ہیں کہ جس سے مسجد آلودہ ہوگی، تو پاؤں دھولے، اسی طرح اگر منہ میں کسی چیز کے ذرات وغیرہ ہیں اور کلی کی حاجت ہے ، تو کلی کرلے ۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت عجیب : مولانا عابد عطاری مدنی فتوی نمبر : 2121-Web تاريخ اجراء : 23 رجب المرجب 1446ھ /24 جنوری 2025ء Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftaAhlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.