Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ کوئی کفر یا گناہ کرے، تو اس پر کیا حکم ہوگا؟

Fatwa no.
2148-Web
Issued
28 رجب المرجب 1446ھ /29 جنوری 2025ء

Question

نا بالغ کوئی کفر یا گناہ کرے ، تو اس پر کیا حکم ہوگا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی نا بالغ کفر و شرک یا کوئی اور کبیرہ گناہ کرتا ہے تو اس پر کیا حکم ہوگا جواب

Answer (beginning)

سمجھدار نابالغ بچے کا بھی کفر و اسلام معتبر ہے، لہذا اگر سمجھدار نا بالغ بچہ صریح کفر بک دے یا واقعی شرک میں مبتلا ہو جائے ، تو وہ کافر ہو جائے گا ، اس پر بھی تو بہ و تجدید ایمان لازم ہے ۔ نابالغ بچے کو گناہ کرنے سے روکا جائے گا البتہ اگر اس سے گناہ سر زد ہو جاتا ہے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ وہ مکلف نہیں ہے ۔ علامه ابن عابدین شامی دمشقی رحمہ اللہ تعالی علیہ ( سال وفات : 1252ھ /1836ء) لکھتے ہیں : ” أن النص حرم الذهب والحرير على ذكور الأمة بلا قيد البلوغ والحرية والإثم على من ألبسهم لأنا أمرنا بحفظهم ذكره التمرتاشی “ترجمہ : نص حدیث نے سونے اور ریشم کو بغیر بلوغت یا آزادی کی قید کے حرام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.