Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض کی تیسری رکعت کے قیام میں دعائے قنوت یا التحیات پڑھی، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 2147-Web
Question
فرض کی تیسری رکعت کے قیام میں دعائے قنوت یا التحیات پڑھی، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت کے قیام میں کسی نے دعائے قنوت یا التحیات پڑھ لی، تو نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکھتوں میں دعائے قوت بھولے سے پڑھی ہو خواہ جان بوجھ کر، نماز ادا ہو جائے گی۔ کیونکہ فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت افضل ہے ، واجب نہیں، تمین بار تسبیح کہنے یا اتنی مقدار خاموش کھڑے رہنے کا بھی اختیار ہے۔ البتہ بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے ، دعائے قنوت اور القیات بھی تسبیح ہے لہذا تیسری یا چوتھی رکعت میں دعائے قنوت پڑھ لی تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں ، نماز ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.