Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خوفِ ریا سے عمل چھوڑنا بھی ریا ہے، اس کی وضاحت
- Fatwa no.
- 2146-Web
Question
خوف ریا سے عمل چھوڑنا بھی ریا ہے ، اس کی وضاحت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک جملہ میں نے سنا تھا کہ خوف ریا سے ترک عمل بھی دیا ہے ، اس جملہ کا کیا مطلب ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
لوگوں کی وجہ سے عمل کو چھوڑنا ریا کاری ہے ، یہ قول حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کا ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ : انسان عمل کو ترک کر دیتا ہے یہ سوچ کر کہ لوگ اگر اس کے عمل کو دیکھیں گے تو اسے ریا کار کہیں گے تو وہ خود کو ریا کار کہلائے جانے کو نا پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اسے ریا کار نہ کہیں بلکہ اس کی طرف ہمیشہ اچھی نظر سے دیکھیں ، اسے ہمیشہ با اخلاص تصور کریں اور اپنی اس چاہت اور پسند کی وجہ سے وہ عمل کو چھوڑ دیتا ہے تو اب اس کا عمل کو چھوڑنا لوگوں میں خود کو با اخلاص ثابت کرنے کے لئے ہو تا ہے نہ کہ لوگوں کے ریا کاری میں مبتلا ہونے کے خوف سے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.