Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا موئے مبارک کی سند ہونا ضروری ہے؟

Fatwa no.
2114-Web
Issued
10 رجب المرجب 1446ھ /11 جنوری 2025ء

Question

کیا موئے مبارک کی سند ہونا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا موئے مبارک کی سند ( یعنی کس کے ذریعے سے یہ آپ کے پاس پہنچے) ہونا ضروری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

موئے مبارک کی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نسبت مشہور ہونا کافی ہے ، اس کے لئے کسی سند یا یقینی ثبوت کا ہونا ضروری نہیں ، ایسی جگہ بے تحقیق و تنقیح تعظیم و تبرک سے باز رہنا سخت محرومی ہے۔ امام اہلسنت ، مجدد دین و ملت، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : "ایسی جگہ ثبوتِ یقینی یا سند محدثانہ کی اصلاحاجت نہیں اس کی تحقیق و تنقیح کے پیچھے پڑنا اور بغیر اس کے تعظیم و تبرک سے باز رہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.