Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والدین کو قتل کرنے والے کی نمازِ جنازہ کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2112-Web
Issued
03 رجب المرجب 1446ھ /04 جنوری 2025ء

Question

والدین کو قتل کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا یہ بات درست ہے کہ جس شخص نے اپنے والدین میں سے کسی کو قتل کیا تو اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

ہر مسلمان اگر چہ گناہ گار فاسق ہو اس کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ہاں بعض شدید جرائم وگناہ کے مرتکب ایسے بھی ہیں جن کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ، والدین کا قاتل بھی ایسے محروم افراد میں داخل ہے ۔ صدرالشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگر چہ وہ کیساہی گنہگا رو مر تکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ ان کی نماز نہیں ۔ (1) باغی جو امام بر حق پر ناحق خروج کرے اور اسی بغاوت میں مارا جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.