Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے؟
- Fatwa no.
- 2109-Web
- Issued
- 09 رجب المرجب 1446ھ / 10 جنوری 2025ء
Question
چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا چاند کی طرف انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنا مکروہ ہے ؟ نیز اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
دور جاہلیت میں لوگ چاند کی تعظیم کے پیش نظر چاند دیکھتے وقت اس کی طرف شارہ کرتے تھے ، اسلام نے اس وجہ سے اس سے منع فرمایا البتہ اگر کوئی کسی کو چاند دکھانے کے لئے اشارہ کرتا ہے تو یہ مکروہ نہیں ۔ الاختیار لتعليل المختار میں ہے : ” ويكره الإشارة إلى الهلال عند رؤيته لأنه من عادة الجاهلية كانوا يفعلونه تعظيماله. أما إذا أشار إليه ليريه صاحبه فلا بأس به، یعنی چاند دیکھتے وقت اس کی طرف اشارہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل جاہلیت کی عادت ہے وہ چاند کی تعظیم کے پیش نظر اس کی طرف اشارہ کرتے تھے ۔ ہاں اگر کسی نے کسی کو دکھانے کے لئے چاند کی طرف اشارہ کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.