Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نیچے بیٹھ کر قرآن پڑھنا جبکہ کچھ افراد بیڈ پر سوئے ہوں

Fatwa no.
2079-Web
Issued
02 رجب المرجب 1446ھ / 03 جنوری 2025ء

Question

نیچے بیٹھ کر قرآن پڑھنا جبکہ کچھ افراد بیڈ پر سوئے ہوں دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی فجر کے بعد مصلے پر بیٹھا قرآن ہاتھ میں لے کر تلاوت کر رہا ہو اور بقیہ افراد بیڈ پر سورہے ہوں ، تو کیا اس میں بے ادبی ہے جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اسے چاہئے کہ خود بھی اونچی جگہ جیسے بیڈ یا کرسی وغیرہ پر بیٹھے کہ اس طرح قرآن کریم نیچے لے کر بیٹھنا ادب کے خلاف ہے بلکہ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ نے تو قرآن کریم کے علاوہ دیگر کتا ہیں جن میں بسم اللہ شریف اور آیات قرآنیہ لکھی ہوں، ان کے نیچے ہونے اور خود او پر بیٹھنے کو بھی خلاف ادب قرار دیا ہے ، مکمل مصحف شریف تو پھر سب سے افضل کتاب ہے ، چنانچہ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : کیو نکر ادب ہوگا کہ کتا ہیں نیچے رکھی ہوں اور آپ اوپر بیٹھیں، کیا ایسے لوگوں کو بے ادبی کی شامت سے خوف نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.