Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا غیر محرم سے سر پر ہاتھ پھروانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2078-Web
- Issued
- 15 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 18 دسمبر 2024ء
Question
عورت کا غیر محرم سے سر پر ہاتھ پھر وانا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عورت غیر محرم سے سر پر ہاتھ پھر وا سکتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
کسی بھی نا محرم مرد کو غیر محرم بالغہ عورت کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی ہر گز اجازت نہیں، بلکہ اگر نا محرم بالغہ عورت کے سر پر بلا حائل ہاتھ پھیرا، تو یہ فعل ناجائز و گناہ ہے یونہی اگر بالغہ عورت نے باریک دوپٹہ اوڑھا ہوا ہو اور جسم کی گرمی محسوس ہوتی ہو، تب بھی یہ فعل ناجائز وگناہ ہے ۔ نیز اگر عورت بے پردہ ہو، تو بے پردگی کا گناہ بھی ہو گا ۔ اس لیے اس طرح کے گناہوں بھرے رواج کو ختم کریں اور نامحرم مرد و عورت آپس میں پردے کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.