Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کی غیبت کی اسے معلوم نہیں، تو کیا اس سے معافی مانگنی ہوگی؟
- Fatwa no.
- 2076-Web
- Issued
- 18 جمادی الاخریٰ 1446ھ /21 دسمبر 2024ء
Question
جس کی غیبت کی اسے معلوم نہیں، تو کیا اس سے معافی مانگنی ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کئی سالوں پہلے کسی رشتے دار کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت کی صرف اپنے نفس کے لیے اور اُس شخص کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے ۔ تو کیا تو بہ قبول ہونے کے لئے اس سے بھی معافی مانگنی ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر ممنوع غیبت کی تھی اور جس کی نیت کی گئی ہے اس کو پتہ نہیں چلا، تو اب صرف اس گناہ سے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کر لینا کافی ہے ، جس کی غیبت کی گئی ہے اس سے معافی مانگنا ضروری نہیں ۔ بہارِ شریعت میں ہے : "جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہو گئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں نے تمہاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کر دو اس سے معاف کرائے اور توبہ کرے تب اس سے برقی الذمہ ہوگا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو تو بہ اور ندامت کافی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.