Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قعدہ اولیٰ میں بھولے سے کھڑے ہونے پر لوٹنے کا حکم کب ہے؟
- Fatwa no.
- 2075-Web
- Issued
- 21 جمادی الاخریٰ 1446ھ /24 دسمبر 2024ء
Question
قعدہ اولیٰ میں بھولے سے کھڑے ہونے پر لوٹنے کا حکم کب ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی قعدہ اولی بھول کر کھڑا ہو جائے اگر کھڑے ہونے کے قریب ہے تو نہ لوٹے اور بیٹھنے کے قریب ہے تو لوٹ آئے ۔ اس مسئلہ میں کھڑے ہونے کے قریب اور بیٹھنے کے قریب سے کون سی حالت مراد ہے؟ جواب
Answer (beginning)
درست مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تین یا چار رکعت والی نماز میں دوسری رکعت پر نہ بیٹھے اور بھول کر سیدھا کھڑا ہو جائے تو اب اس کو قعدہ کی طرف لوٹنا جائز نہیں بلکہ نماز جاری رکھے اور آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کر دے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی ۔ اور اگر پورا سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو اب اگر بیٹھنے کے قریب ہے کہ نیچے کا آدھا بدن ابھی سیدھا نہ ہونے پایا تو لوٹ آئے اور اس صورت میں اس پر سجدہ سہو نہیں ۔ اور اگر کھڑے ہونے کے قریب ہے یعنی نیچے کا آدھا سیدھا اور پیٹھ میں خم (جھکاؤ) باقی ہے تو بھی قعدہ کی طرف لوٹنے کا حکم ہے لیکن اس صورت میں اس پر سجدہ سہو واجب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.