Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کی وفات پر یہ کہنا کیسا کہ اللہ کو پیارا ہوگیا

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2073-Web
Issued
27 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 30 دسمبر 2024 ء

Question

کسی کی وفات پر یہ کہنا کیساکہ اللہ کو پیارا ہو گیا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اکثر وفات پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ کو ضرورت تھی۔ اس طرح کے جملے کہنے کا کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

اللہ کو پیارا ہو گیا کہنے کا مقصد میت سے نیک فال لینا ہو سکتا ہے ، اس طرح کہنے میں تو حرج نہیں، البتہ سوال میں بیان کردہ جملہ اللہ کو ضرورت تھی کفریہ ہے ، کیونکہ اس میں اللہ عزوجل کو ضرورت مند یا محتاج کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ضرورت مند یا محتاج کہنا کفر ہے ، ایسا ہر گز نہ کہا جائے ۔ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب نامی کتاب میں ہے "سوال : ایک نیک نمازی آدمی فوت ہو گیا ، اس پر پڑوسی نے کہا : " نیک لوگوں کو اللہ عز و جل جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عزوجل کو بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ " پڑوسی کا یہ قول کیسا ہے ؟ جواب : پڑوسی کا قول کفریہ ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.