Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ سے ٹچ ہونے سے بھی غسل فرض ہوجاتا ہے؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2072-Web
Issued
27 جمادی الاخر مئی 1446ء 30 دسمبر 2024

Question

کیا مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ سے نیچ ہونے سے بھی غسل فرض ہو جاتا ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا صرف مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ سے بچ ہونے سے غسل فرض ہو جاتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

صرف شرمگاہ کے ٹچ ہونے سے غسل واجب نہیں ہوتا جب تک منی خارج نہ ہو ۔ ہاں ! اگر درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو تو اس عمل سے عورت کا وضو ٹوٹ جائے گا اور انتشار عضو تناسل کی صورت میں مرد کا بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ بہارِ شریعت میں ہے : "مباشرت فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو ندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت باہم ملائیں بشر طیکہ کوئی شے حائل نہ ہو نا قض وضو ہے ۔ ۔ ۔ اگر مرد نے اپنے آلہ سے عورت کی شرمگاہ کو مس کیا اور انتشار آلہ نہ تھا عورت کا وضو اس وقت میں بھی جاتا رہے گا اگرچہ مرد کا وضو نہ جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.