Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا حاملہ عورت کا بچہ کو دودھ پلانا پیٹ میں موجود بچے کی حق تلفی ہے؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2108-Web
Issued
06 رجب المرجب 1446ھ / 07 جنوری 2025ء

Question

کیا حاملہ عورت کا بچہ کو دودھ پلانا پیٹ میں موجود بچے کی حق تلفی ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں حمل سے ہوں اور میرا بیٹا ابھی 2 سال سے چھوٹا ہے ، میں بچے کو اپنا دودھ دیتی ہوں ، جہاں بھی آنا جانا ہو تا ہے ، تو ملنے والی خواتین کہتی ہیں کہ یہ آنے والے بچے کا حق ہے جو تم اس بچے کو پلا رہی ہو ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں اپنے بچے کو دودھ پلا کر پیٹ میں موجود بچے کی حق تلفی کر رہی ہوں ؟ جواب

Answer (beginning)

آپ کا اپنے دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا بالکل جائز ہے ۔ بچے کی عمر جب تک چاند کے حساب سے دو سال کی نہ ہو جائے اس وقت تک اسے دودھ پلا سکتی ہے ۔ یہ پیٹ میں موجود بچے کی کوئی حق تلفی نہیں ۔ البتہ طبی اعتبار سے حاملہ عورت کا دودھ پینے والے بچے کو نقصان دیتا ہو یا دودھ پلانے سے پیٹ میں موجود بچے کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو مستند ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.