Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا والد یا شوہر مالدار ہو، تو کیا ان پر اس کو حج کروانا فرض ہوگا؟

Fatwa no.
2107-Web
Issued
08 رجب المرجب 1446ھ /09 جنوری 2025ء

Question

عورت کا والد یا شوہر مالدار ہو ، تو کیا ان پر اس کو حج کروانا فرض ہوگا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی عورت کا والد یا شوہر مالدار ہو، توکیا ان پر اس عورت کو حج کروانا بھی فرض ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

شوهر ، والد صاحب اگر چہ کتنے ہی مالدار ہوں ان پر بیوی، بیٹی وغیرہ کو حج کروانا لازم نہیں ہوتا، حج فرض ہونے کے لئے ہر شخص کی اپنی ملکیت میں موجود مال کا اعتبار کیا جاتا ہے اور دیگر شرائط کی موجودگی میں اسی کے حساب سے دیکھا جاتا ہے کہ اس شخص پر حج فرض ہے یا نہیں ۔ حج واجب ہونے کے شرائط نیز مزید تفصیلات جاننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں ۔ https://www.dawateislami.net/islamicportal/ur/farzuloom/hajj- k-wajib-hone-k-sharait وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّم نجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی فتوی نمبر : 2107-Web تاریخ اجراء…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.