Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

داڑھی کی حدود کہاں تک ہے اور گردن و چہرے سے بال صاف کرنا کیسا؟

Fatwa no.
2106-Web
Issued
10 رجب المرجب 1446ھ / 11 جنوری 2025ء

Question

داڑھی کی حدود کہاں تک ہے اور گردن و چہرے سے بال صاف کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) داڑھی کہاں سے کہاں تک ہوتی ہے اور چہرے و گردن کے بال کہاں کہاں سے صاف کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

چہرے کی لمبائی میں قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں اور ٹھوڑی پر جمنے والے بال ، جبکہ چوڑائی میں کانوں اور گالوں کے بیچ بالائی حصے کے بال داڑھی ہے ، اس میں سے ایک مشت پوری ہونے سے پہلے تھوڑا یا زیادہ کاٹنا ، ناجائز و گناہ ہے ۔ البتہ ٹھوڑی سے نیچے گلے کے بال چونکہ داڑھی کا حصہ نہیں ہیں، لہذا شرعاً ان کا کاٹنا یا مونڈانا تو جائز ہے ، تاہم بہتر یہ ہے کہ نہ کاٹے ، نہ مونڈوائے جائیں ۔ یونہی گردن کے بال مونڈانے کو بھی چونکہ علمائے کرام نے نا پسند فرمایا، لہذا نہیں بھی کاٹنے ، مونڈوانے سے بچنا چاہیئے ۔ ہاں ! اگر پورے سر کے بال بھی مونڈوائے تو ساتھ گردن کے بال بھی مونڈائے جاسکتے ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.