Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بالغہ لڑکی کے تیرہ چودہ پندرہ سال کے لڑکے سے پردہ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 2105-Web
Question
بالغہ لڑکی کا تیرہ چودہ پندرہ سال کے لڑکے سے پر وہ کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر عورت کی عمر 20 سال سے زیادہ ہو تو کیا 13, 14, 15 سال کے لڑکوں سے پردہ کرنا ہو گا؟ جواب
Answer (beginning)
جس لڑکے کی عمر 15 سال ہو چکی یا 15 سال سے کم ہے لیکن بالغ ہو چکا ہے ، تو اس سے پردہ کرنا بہر حال لازم ہے ، ہاں ! جس کی عمر 15 سال سے کم ہے اور بالغ بھی نہیں ، لیکن بالغ ہونے کے قریب ہے ، تو اگر چہ اس سے بالغ کی طرح پردہ کرنا لازم نہیں مگر اس سے بھی پردہ کرنا چاہیئے ۔ پردے کے بارے میں سوال وجواب میں ہے : "مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں : وہ چھوٹے بچے جو ا بھی بلوغ کے قریب بھی نہ ہوں (ان سے پردہ نہیں) معلوم ہوا کہ مراہق یعنی قریب البلوغ لڑکے سے پردہ چاہیئے ۔ ۔ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.