Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا گھر میں آنے والی بلی کو کچھ کھانا دینے پر ثواب ملے گا؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2103-Web
Issued
02 رجب المرجب 1446ھ / 03 جنوری 2025ء

Question

کیا گھر میں آنے والی بلی کو کچھ کھانا دینے پر ثواب ملے گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے گھر بلی آئے اور وہ اس کو کھانے کے لئے کچھ دے، تو کیا اس پر ثواب حاصل ہو گا اور کیا ہر بار کھلانے میں ثواب کی نیت ضروری ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

بلی کو اچھی نیت سے کھلانے پر ثواب ملے گا۔ مگر بلی کو ثواب کی نیت سے کھلانے پر ہی چونکہ ثواب کی امید ہے لہذا ہر بار تجدید نیت کرنی چاہیئے کہ کہیں ثواب سے محرومی نہ ہو۔ صحیح بخاری میں ہے : "قالوا يا رسول الله وإن لنا في البهائم لأجرا؟ فقال في كل ذات كبد رطبة أجر“ یعنی صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے لئے جانوروں میں بھی اجر (ثواب) ہے ؟ ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر تر جگر والی میں اجر (ثواب) ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.