Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کے پاس رقم ہو، تو وہ ایک ساتھ صدقہ کرے یا تھوڑی تھوڑی کر کے؟

Fatwa no.
2102-Web

Question

کسی کے پاس رقم ہو، تو وہ ایک ساتھ صدقہ کرے یا تھوڑی تھوڑی کر کے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص کے پاس تمین سو روپے ہیں، وہ صدقہ کرنا چاہتا ہے، تو کیا ایک ساتھ کرے یا ہر روز وس، دس روپے نکالتا رہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اکھٹے بھی صدقہ دے سکتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بھی ۔ تاہم بلاؤں، مصیبتوں سے بچنے کیلئے زیادہ فائدہ مند ہر روز صدقہ دینا ہے ۔ شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”باكِرُوا بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ الْبَلَاء لَا يَتَخَطَّى الصَّدَقَةَ“ یعنی صبح سویرے صدقہ دیا کرو کیونکہ بلا صدقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.