Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنت البقیع سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنے وطن لانا کیسا؟

Fatwa no.
2100-Web
Issued
01 رجب المرجب 1446ھ /02 جنوری 2025ء

Question

جنت البقیع سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنے وطن لانا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جنت البقیع سے کچھ مٹی بطور تبرک اپنے وطن لانا کیسا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

تبرک کی نیت سے جنت البقیع ، مدینے شریف کی مٹی لانے اور گھر میں رکھنے پر گناہ تو نہیں ہے تاہم !بہتر یہ ہے کہ مدینہ شریف کی مٹی وغیرہ کو مدینہ شریف سے جدا نہ کیا جائے ۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت برکا تہم العالیہ اس طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : " بطور تبرک خاک مدینہ وطن میں لانا ، جائز ہے مگر مشورہ عرض ہے کہ نہ لائی جائے ۔ خاتم المحدثین حضرت سید ناشیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : اکثر علما کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفا و تعظیما کی خاک، اینٹ، ٹھیکری اور پتھر نہ اٹھائے ۔ علمائے حنفیہ اور بعض شافعیہ رحمہم اللہ تعالی جائز بھی کہتے ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.