Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس نے اپنے مطلب کے لئے دوستی کی، اس سے کیسا رویہ رکھا جائے؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2099-Web
Issued
05 رجب المرجب 1446ھ / 06 جنوری 2025ء

Question

جس نے اپنے مطلب کے لئے دوستی کی، اس سے کیسا رویہ رکھا جائے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مجھ سے ایک شخص نے صرف اپنے مطلب کے لیے دوستی کی ، جب اس کا مطلب پورا ہو گیا، تو اس نے مجھ سے تعلق ختم کر دیا اور جاتے ہوئے اس نے کہا کہ اس نے دوستی صرف اپنے کام کی غرض سے کی تھی ۔ اس کے باوجود میں اسے اپنا سچا دوست مانتا تھا ، اب اس کے ساتھ مجھے کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے ؟ اگر وہ دوباره دوستی کرے تو اس سے دوستی کرنی چاہیے یا اس سے بالکل علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے ؟ جواب

Answer (beginning)

دوست دیکھ کر بنانا چاہئے کہ اس کے اخلاق، عادات اور با لخصوص دینی معاملات کیسے ہیں نیز وہ سنی صحیح العقیدہ ہے یا نہیں ۔ تاہم پوچھی گئی صورت میں دوبارہ دوستی کرنا ضروری نہیں ہے ، البتہ مسلمان کو ضرورت ہو تو رضائے الہی اور ثواب آخرت حاصل کرنے کی نیت سے اس کی مدد کرنے سے ثواب ملے گا ۔ نیز قطع تعلقی یا بات چیت کرنا بند نہ کی جائے کہ یہ درست نہیں ۔ دوست بنانے یا نہ بنانے کا آپ کو اختیار ہے ۔ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے : (خُذِ الْعَفْوَ وَأمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ) ترجمہ کنز الایمان : "اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.