Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ کا مال غیر شادی شدہ لڑکی کو دینا کیسا؟

Fatwa no.
2089-Web
Issued
02 رجب المرجب 1446ھ / 03 جنوری 2025ء

Question

زکوۃ کا مال غیر شادی شدہ لڑکی کو دینا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کی زکوۃ کا مال گھر کی غیر شادی شدہ لڑکی کو دے سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر وہ لڑکی سید نہیں ہے اور شرعی فقیر ہے ( یعنی اس کی ملکیت میں سونا چاندی یا حاجت سے زائد کوئی سامان اتنا نہیں ہے جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد بنتی ہو) تو اس صورت میں اسے زکوۃ دی جا سکتی ہے جبکہ وہ زکوۃ دینے والے کی اصول و فروع ( یعنی اولاد اور والدین و آباؤ اجداد) میں سے نہ ہو۔ یعنی بیٹیوں پوتیوں نواسیوں کو زکوۃ نہیں دے سکتے وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم عجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی فتوی نمبر : 2089-Web تاریخ اجراء : 02 رجب المرجب 1446ھ / 03 جنوری 2025ء دار الافتا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.