Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں یا نماز کے بعد شک ہو یا یقین ہو کہ کوئی رکعت رہ گئی ہے، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 2088-Web
Question
نماز میں یا نماز کے بعد شک ہو یا یقین ہو کہ کوئی رکعت رہ گئی ہے، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں سلام پھیرنے کے بعد تسبیحات پڑھتے ہوئے اگر شک ہو کہ شاید کوئی رکعت رہ گئی یا پھر دوسنت فجر پڑھنے کے بعد فرض پڑھتے ہوئے شک یا یقین ہو کہ سنت ایک رکعت پڑھی تو کیا کرنا چاہیئے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر نماز مکمل کرنے کے بعد اس کی رکعتوں کی تعداد میں شک پیدا ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ، اس صورت میں نماز دہرانے کی حاجت نہیں ہے ۔ البتہ نماز مکمل ہو جانے کے بعد اگر یقین ہو جائے کہ کوئی فرض رہ گیا تھا، صرف اس بارے میں شک ہے کہ کون سا فرض رہ گیا تھا تو اب وہ نماز نئے سرے سے پڑھنا لازم ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : " نماز پوری کرنے کے بعد (شمارِ رکعت میں) شک ہوا تو اس کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اور اگر نماز کے بعد یقین ہے کہ کوئی فرض رہ گیا مگر اس میں شک ہے کہ وہ کیا ہے تو پھر سے پڑھنا فرض ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.