Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کا نام عمّار ہو، اس کا نام میم کی تشدید کے بغیر بولنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2086-Web
- Issued
- 29 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 01 جنوری 2025ء
Question
جس کا نام عمار ہو، اس کا نام میم کی تشدید کے بغیر ہونا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر بچے کا نام عمار رکھیں، تو لوگ اس نام کو میم کی تشدید کے بغیر پکارتے ہیں، ایسا کرنا غلط تو نہیں بے معنی میں فساد تو نہ ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
عمار نام رکھنا جائز ہے اور باعث برکت ہے کہ یہ صحابی رسول کا نام ہے اور اس کا صحیح تلفظ یہی ہے کہ میم پر تشدید پڑھی جائے ، اگر کوئی بغیر تشدید کے پڑھتا ہے ، تو اس سے معنی فاسد تو نہ ہوں گے ، البتہ اس کی اصلاح کر دی جائے ۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم عجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی فتوی نمبر : 2086-Web تاریخ اجراء : 29 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 01 جنوری 2025ء علام الافيا اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.