Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمل کرنے کے لئے علم کا سیکھنا فرض ہے یا بالذات ایک الگ فرض ہے؟
- Fatwa no.
- 2093-Web
- Issued
- 05 رجب المرجب 1446ھ / 06 جنوری 2025ء
Question
عمل کرنے کے لئے علم کا سیکھنا فرض ہے یا بالذات ایک الگ فرض ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) علم کا بالذات سیکھنا فرض ہے یا عمل کے واسطے فرض ہے ؟ اگر کسی کو نماز کے فرائض کا علم نہیں ہے مگر نماز کے فرائض صحیح ادا ہو رہے ہیں ، تو کیا وہ فرائض نماز نہ سیکھنے کے سبب گناہگار ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
جس طرح فرض اعمال پر عمل کرنا فرض ہے ، اسی طرح ان فرائض کا علم حاصل کرنا بھی الگ سے بالذات فرض ہے ، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ بندہ مثلا نماز کی صحیح ادائیگی کا علم حاصل نہ کرے اور اسی پر اکتفاء کرے کہ میری نماز لوگوں کے مطابق ہے ، اور اس میں کوئی خرابی نہیں ہے ، اس شخص کے لئے جو صحیح نماز تو پڑھتا ہو اور فرض نماز کا علم نہ سیکھا ہو، تب بھی اس پر فرض نماز کا علم حاصل کرنا فرض ہی رہے گا تاکہ نماز میں کوئی غلطی ہونے کی صورت میں اس کا حل معلوم ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.