Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عارش اور سالار کا معنی اور یہ نام رکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2051-Web
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سالار اور عارش نام کے کیا معنی ہیں اور یہ نام رکھنا کیسا
Answer (beginning)
سالار کے معنی ہیں : سردار ، رہنما، جبکہ عارش کا معنی بنانے والا، بلند و غیرہ ہیں۔ یہ دونوں نام رکھنا جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ انبیائے کرام، صحابہ کرام والیاء کرام علیہم الرضوان کے ناموں پر بچوں کے نام رکھے جائیں تاکہ ان کی برکتیں حاصل ہوں۔ تفسیر نیشاپوری میں ہے : ” العرش لغة هو البناء والعارش الباني قال تعالى: وَمِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا يَعْرِشُونَ (النحل: ٦٨) یعنی عرش لغوی طور پر عمارت (بناوٹ ) کو کہا جاتا ہے ، اور "العارش " کا مطلب ہے " بنانے والا"۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : اور درختوں سے اور ان چیزوں سے جو وہ بناتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.