Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تہجد کی عادت بنا کر اس کو چھوڑنے کا حکم

Fatwa no.
2037-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کہا جاتا ہے جب ایک دفعہ تہجد کی نماز شروع کر لی جائے تو اس کو چھوڑا نہ جائے بلکہ اس کو ہمیشہ پڑھتے ہی رہنا چاہئے اگر چھوڑیں گے تو گناہ ہو گا کیا یہ درست ہے ؟

Answer (beginning)

تہجد کی نماز کے بے شمار فضائل و برکات ہیں مگر یہ نماز ہم پر فرض و واجب نہیں کہ اگر کوئی چھوڑ دے تو گنہ گار قرار پائے البتہ حدیث پاک کی روشنی میں جو شخص تہجد کا عادی ہو اسے بلا عذر محض ستی کے سبب تہجد چھوڑنا اچھا عمل نہیں ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو کوئی حرج نہیں۔ البتہ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صرف اس وجہ سے نماز تہجد سے رکے رہنا کہ بعد میں ساری زندگی پڑھنی ہوگی، درست سوچ نہیں۔ بالفرض عمل میں سستی ہو جاتی ہو تو بھی موقع ملنے پر بلکہ کوشش کر کے تہجد کی نماز ادا کرنی چاہیے۔ بہار شریعت میں ہے : "جو شخص تہد کا عادی ہو بلا عذر اسے چھوڑ نا مکروہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.