Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مغرب و عشاء کے درمیان سونے سے عورت بانجھ ہوتی ہے؟
- Fatwa no.
- 2030-Web
- Issued
- 17 جمادی الاولی 1446ھ /20 نومبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا عورت مغرب کے وقت یا مغرب اور عشاء کے درمیان سونے سے بانجھ ہو جائے گی اور اگر اولاد ہوئی بھی تو کیا اولاد نافرمان ہو گا ؟
Answer (beginning)
مغرب و عشاء کے درمیان سونا مکروہ ہے البتہ تھکاوٹ یا عذر کی بنا پر سونے میں حرج نہیں۔ تاہم عورت کا مغرب کے وقت یا مغرب و عشاء کے درمیان سونے کی صورت میں بانجھ ہو جانا یا اس وجہ سے نافرمان اولاد کا پیدا ہو نا، اس بات کی شرعا کوئی حقیقت نہیں۔ بہار شریعت میں ہے: ”دن کے ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشا کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔ بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحه 436، مکتبۃ المدینه، کراچی) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.