Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تکبیر قنوت میں ہاتھ اٹھانے کا حکم

Fatwa no.
2019-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) نماز وتر میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیر قنوت میں رفع الیدین یعنی ہاتھ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

دعائے قنوت کہتے وقت ہاتھ اٹھا نا سنتِ مؤکدہ ہے، لہذا بلا عذر شرعی جان بوجھ کر دعائے قنوت کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھانا، اساءت ( یعنی برا عمل) ہے اور اس کی عادت بنالینا، ناجائز و گناہ ہے۔ تاہم اگر کوئی دعائے قنوت کہتے وقت بھول کر یا جان بوجھ کر ہاتھوں کو بلند نہ کرے، تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی، نہ تو نماز کو دہرانالازم ہو گا اور نہ ہی سجدہ سہو واجب ہو گا کہ نماز کی کسی سنت کو ترک کر دینے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ بہار شریعت میں سنن نماز کے بیان میں ہے: (۱) تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھانا۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.