Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعائے قنوت میں کچھ الفاظ بھولے سے رہ جائیں، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 2064-Web
- Issued
- 16 جمادی الاخری 1446ھ / 19 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھتے ہوئے کچھ الفاظ بھولے سے رہ جائیں ، تو کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
اگر در میانِ قنوت میں سے بعض الفاظ پڑھنے سے رہ گئے ، جس سے معنی فاسد نہیں ہو رہا تو نماز ہو جائے گی، سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہو گا۔ البتہ مکمل اور درست دعائے قنوت یاد کرنے کی کوشش جاری رکھیں تاکہ وتر میں مکمل دعائے قنوت پڑھنا ممکن ہو سکے کہ اگر چہ بعض دعائے قنوت سے بھی واجب ادا ہو جائے گا، لیکن دعائے قنوت کو مکمل پی ڑھنا مستحب ومندوب ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ علیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں: ان كان قرا بعضه حصل المقصود به لان بعض القنوت قنوت یعنی اگر نمازی نے بعض دعائے قنوت پڑھ لی، تو مقصود ( یعنی واجب) حاصل ہو جائے گا، کیونکہ بعض قنوت بھی قنوت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.