Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرک کرنے کے بعد سچی توبہ کی تو معافی ملے گی یا نہیں؟

Fatwa no.
2059-Web
Issued
11 جمادی الاخری 1446ھ / 14 دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا اللہ پاک شرک کو معاف نہیں فرماتا، اگر کسی نے شرک کیا ہو اور مرنے سے پہلے اس نے شرک سے سچی توبہ کر لی ہو ، تو کیا اس کا یہ جرم معاف ہو جائے گا یا اس کو سزا ملے گی؟

Answer (beginning)

جو مکلف شرک یا کفر کی حالت میں مر گیا، اس کے لئے معافی نہیں لیکن اگر کسی نے کبھی شرک یا کفر کیا اور پھر زندگی میں ہی اس نے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے تجدید ایمان کر لیا تو اس کو معافی مل جائے گی، اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ وحشی جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا تھاوہ سلطانِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے امان دیجئے تاکہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے خدا کا کلام سنوں کہ اس میں میری مغفرت اور نجات ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.