Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گمشدہ شخص کی وراثت کا حکم
Answer (beginning)
جو شخص گم ہو جائے اور اس کے زندہ ہونے یا انتقال کر جانے کا علم نہ ہو ، تو وہ شخص اپنے مال کے اعتبار سے زندہ سمجھا جائے گا اور اس کے مال میں وراثت جاری نہیں ہو گی، اس کے مال کو محفوظ رکھا جائے گا۔ 70 سال کی عمر ہونے تک اگر یہ واپس آجاتا ہے ، تو اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے گا، اور اس کی عمر 70 سال ہونے پر اس کے زندہ ہونے یا انتقال کرنے کا پتہ نہیں چلتا، تو قاضی شہر کے پاس مسئلہ پیش ہو اور وہ اس کی موت کا حکم دے دے اور قاضی نہ ہونے کی صورت میں مفتی شہر اس کی موت کا حکم دے دے، تو اس وقت اس کی ملکیت میں جو کچھ ہے ، وہ ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، جو اس کی موت کے وقت زندہ ہوں اور جو اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.