Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سونے کا زیو ر ادھار بیچنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال میں بیان کردہ خرید و فروخت شرعا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ سونے چاندی کے سکوں یعنی دینار و درہم اور سونے چاندی کے بنے ہوئے زیورات میں کچھ فرق ہے اور وہ یہ کہ دینار و درہم تو عقد میں متعین نہیں ہوتے، بلکہ یہ ذمہ پر لازم ہوتے ہیں، لہذا چیز خریدتے وقت اگر کسی نے کہا کہ اس درہم کے بدلے یہ چیز دے دو تو بعد میں خریدار اس درہم کے بدلے دوسر اور ہم بھی دے سکتا ہے، کیونکہ یہ در ہم متعین نہیں ہوا تھا، لیکن سونے چاندی کا بنا ہو از یورذمہ پر لازم نہیں ہوتا، بلکہ عقد میں متعین ہو جاتا ہے، لہذا جس زیور پر عقد وارد ہوا ہو بعینہ اسی کو دینا لازم ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.