Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ادھار میں آرڈر پر زیور بنانا کیسا ؟

Answer (beginning)

آرڈر پر اس طرح زیور تیار کروانا کہ کچھ رقم ایڈوانس دے دی جائے اور کچھ زیور ملنے کے وقت دینا طے پائے یہ شرعی طور پر جائز ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ زیور یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز کاریگر سے تیار کروانا شرعی طور پر بیع استصناع کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ بنوائی جانے والی چیز کی جنس، نوع اور وصف وغیرہ یوں بیان کر دیا جائے کہ جہالت باقی نہ رہے۔ نیز یہ کہ اس چیز کے بنوانے میں لوگوں کا تعامل ہو، لہذا جس چیز کے بنوانے کا تعامل نہ ہو ، اس کی بیع استصناع جائز نہیں ہوتی اور چونکہ سونے کے زیورات میں بھی یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں، اس لیے اس کی بیع استصناع بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.