Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کالا جادو کرنے ،کروانے اور اس کے لیے پیسے وغیرہ دینے کا حکم
Answer (beginning)
(1) کالا جادو ناجائز و حرام ، بلکہ کفریہ اقوال و افعال پر بھی مشتمل ہوتا ہے ، اس لیے کالا جادو کرنا اور کرواناسخت ناجائز و حرام، گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآن و حدیث میں بہت واضح اور کھلے انداز میں جادو کی مذمت بیان کی گئی ہے اور بہت سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں ، بالخصوص اگر جادو کے عمل میں کسی قسم کا کفریہ اعتقاد ( مثلا ستاروں، شیاطین کو موثر مانا)، 1 کفریہ قول یا کفریہ فعل ( مثلا: قرآن پاک کی کسی ذریعے سے توہین کرنا وغیرہ) پایا جائے ، تو جادو کرنے والا شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.