Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوران نماز مچھر کاٹے تو، کیا اسے مار سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جبکہ مچھر کے کاٹنے پر ایک ہاتھ کا استعمال کرتے ہوئے مچھر کو مار دیا، تو اس صورت میں نماز بلا کراہت درست ہو گئی اور اس نماز کو دُہرانے کی بھی حاجت نہیں۔ فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر جوں، چیونٹی اور مچھر وغیرہ دورانِ نماز اذیت پہنچائیں ، تو عمل قلیل کے ساتھ ان کو مار ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔ بلا ضرورت عمل قلیل کے ساتھ نماز میں جوں یا مچھر مارنا، مکروہ ہے، لیکن اگر مچھر وغیرہ کاٹتے ہوں، تو عمل قلیل کے ساتھ ان کو مارنے میں کوئی حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.