Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ناجائز شرط پر گھر بیچنے کا حکم‎

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں زید اور بکر کا معاہدہ کرنا، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ سوال میں ذکر کردہ معاہدے کی صورت بیچ وفا ( جب بیچنے والا خریدار کو پیسے واپس کرے گا ، تو خریدار بیچنے والے کی چیز واپس کر دے گا) کی ہے اور بیع وفا رہن کے حکم میں ہے اور رہن سے نفع حاصل کرنا، ناجائز ، حرام ، سو دو گناہ ہے۔ نیز اگر اس معاہدے کو عقد بیع تسلیم بھی کر لیا جائے ، تو بھی یہ معاہدہ فاسد، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ بیچ میں ایسی شرط لگانا، جو بیچنے والے یا خریدنے والے میں سے کسی کے لیے مفید ہو ، مگر اس پر عرف جاری نہ ہو ، تو وہ شرط عقد کو فاسد کر دیتی ہے اور چونکہ صورتِ مسئولہ میں یہ شرط ”جب پیسے دوں گا، توگھر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.