Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سورج گہن کی نماز جماعت سے ادا کریں تو قراءت جہری ہوگی یا سری؟

Fatwa no.
10799-Nor

Question

سری؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سورج گہن کی نماز جماعت سے ادا کریں تو قراءت جہری ہوگی یا سری؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جہری قراءت کرنی چاہیے کیونکہ بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "جهر النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الخسوف بقراءته "ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خسوف میں جہری قراءت فرمائی۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب الجهر بالقراءة الخ، ج 1، ص 145، کراچی) آپ درست رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

سورج گہن کی نماز میں قراءت سری یعنی آہستہ آواز میں ہوگی، جہری یعنی بلند آواز میں قراءت نہیں ہوگی ، یہی احناف اور جمہور فقہائے کرام کا مؤقف ہے۔ اس کے چند دلائل درج ذیل ہیں: (1) متعد د احادیث مبارکہ میں مروی ہے کہ سورج گہن کی نماز میں آپ علیہ السلام کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ (2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان سورج گہن کی نماز میں قراءت کی مقدا ر کو اندازے سے بیان فرماتے ہیں، یہ اس پر دلیل ہے کہ قراءت سری تھی کیونکہ اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت فرمائی ہوتی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اندازے سے نہ بتاتے ، جو قراءت فرمائی تھی، اسی کو واضح طور پر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.