Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی امام کے آخری قعدے میں دُرود و دعا پڑھ لے ،تو کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
مسبوق ( یعنی جس کی کوئی رکعت رہ گئی ہو ، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ تشہد کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے، تا کہ امام کے سلام پھیرنے کے وقت فارغ ہو اور اگر پھر بھی امام کے سلام پھیرنے سے پہلے فارغ ہو جائے، تو کلمہ شہادت کی تکرار کرے، لیکن اگر کسی مسبوق نے بھول کر یا جان بوجھ کر اس کا خلاف کیا، یعنی تشہد کے بعد بالکل خاموش رہایا اس کے بعد ڈرود ابراہیمی و دعا پڑھ لی یا دوبارہ مکمل تشہد پڑھ لیا، تو اس کا یہ عمل بھی جائز ہے، جس سے نہ تو بھول کر کرنے والے پر سجدہ ہو گا اور نہ ہی جان بوجھ کر کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.