Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے پر لی ہوئی دکان آگے کرائے پر دینے کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں فریق دوم کا کرائے پر لی گئی دُکان فریق ثالث کو کرائے پر دے کر منافع لینا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ بیان کی گئی صورت شرعی طور پر کرائے والی چیز کسی تیسرے شخص کو کرائے پر دے کر منافع لینے کی بنتی ہے اور اس کی جائز صورت یہ ہے کہ دکان کرائے پر لینے والا شخص یعنی فریق دوم دکان کی تعمیر و مرمت کرے، یا پھر اس کے ساتھ اپنی کوئی چیز ملا کر زائد کرائے پر دے تو اس کے لیے زائد کرایہ پر دینا جائز ہے اور ہماری بیان کی گئی صورت میں بھی فریق دوم نے دُکان میں ریک بنوائے ، سفیدی کروائی اور اس میں سیلنگ پیلنگ کا کام کروایا، تو فریق دوم کے لیے وہ دُکان آگے کرائے 1 پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.