Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآن و حدیث کی روشنی میں وسیلہ کا ثبوت؟

Answer (beginning)

نفس مسئلہ کو جاننے سے پہلے وسیلہ کا معنیٰ و مفہوم جان لیجیے۔ لغوی اعتبار سے وسیلہ کا معنی ہے: ”ھی فی الاصل ما يتوصل به الی الشی و يتقرب به “ یعنی دراصل و هی وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی تک پہنچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے۔ (لسان العرب، جلد 11، صفحه 725، مطبوعہ بیروت) اور شرعی لحاظ سے وسیلہ کا مطلب ہے کہ دعاؤں کی قبولیت اور مطالب کے حصول کے لئے اپنے نیک اعمال کو یا اللہ پاک کے مقرب بندوں ، یعنی انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَ السَّلام و اولیائے عظام رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالٰی کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنانا، کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.