Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سنتِ غیر مؤکدہ پڑھتے ہوئے جماعت قائم ہو جائے ،تو حکم

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص سنت غیر مؤکدہ یعنی عصر یا عشاء کی سنن قبلیہ ادا کر رہا ہو اور پہلی یا دوسری رکعت میں ہی ہو اور جماعت قائم ہو جائے ، تو ضروری ہے کہ یہ شخص چار کی بجائے دو سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہو جائے، کیونکہ سنت غیر مؤکدہ نفل کے حکم میں ہیں اور نفل میں ہر دور کعتیں جدا گانہ شمار کی جاتی ہیں، البتہ اگر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تھا، تو پھر چار رکعتیں پوری کر لے اور جماعت میں شامل ہو ۔ امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان رَحْمَةُ الله تَعَالى عَلَيْهِ (سال وفات : 1340هـ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ ”ایک شخص نے چار رکعت نماز سنت یا نفل کی نیت کر کے شروع کی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.