Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے علاوہ ناپاک کپڑا پہننے کا حکم
Answer (beginning)
بہتر ہے کہ ناپاک کپڑا نہ پہنا جائے ، کیونکہ پسینہ آنے یا گیلے ہونے سے بدن کے نجس ہونے کا امکان رہتا ہے ، البتہ مطلقا نا پاک کپڑا پہننا گناہ نہیں ہے ، جبکہ اس پر لگی نجاست خشک ہو ۔ ہاں اگر نجاست ایسی تازہ ہے کہ کپڑا پہنے سے نجاست چھوٹ کر بدن کو لگے گی تو اس صورت میں پاک کپڑا ہوتے ہوئے ناپاک کپڑا پہنا جائز نہیں ہو گا کہ یہ بلاوجہ بدن کو ناپاک کرنا ہے۔ نماز کے علاوہ عام حالات میں ناپاک کپڑ پہننے سے متعلق بحر الرائق اور وز مختار میں ہے: واللفظ للدر" وله لبس ثوب نجس فی غیر صلوۃ یعنی نماز کے علاوہ میں آدمی ناپاک کپڑا پہن سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.