Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقتدی کے لیے کب سلام پھیرنا سنت ہے؟

Answer (beginning)

سنت یہ ہے کہ جو مقتدی شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہے ، وہ امام کے سلام پھیرتے ہی اپنا پہلا سلام پھیر دے۔ یعنی جب امام نے سلام پھیر ناشروع کیا، تو امام کا سلام ختم ہونے سے پہلے مقتدی سلام پھیر ناشروع کر دے ، یہی طریقہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی سنت ہے اور مقتدی کو اسی پر عمل کرنے کا حکم ہے۔ بخاری شریف میں ہے : ” وكان ابن عمر رضی اللہ عنھما یستحب إذاسلم الإمام أن يسلم من 1 خلفہ۔۔۔۔ عن عتبان قال صلينا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فسلمنا حین سلم“ ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پسند کرتے تھے کہ جب امام سلام پھیرے، تو مقتدی بھی سلام پھیر دیں۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.