Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق نے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا ،تو نماز کا حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس مقتدی کی نماز درست ہو گئی اور اس پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں تھا، کیونکہ اس نے امام کے سلام کے بالکل ساتھ ساتھ بھولے سے سلام پھیرا تھا اور جب مسبوق مقتدی بھولے سے امام سے پہلے یا معا امام کے ساتھ ساتھ بغیر تاخیر سلام پھیر لے ، تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، کہ اس وقت وہ امام کی اقتدا میں تھا اور امام کی اقتدا میں سہواً کوئی واجب ترک ہونے پر سجدہ سہو نہیں ہو تا، ہاں اگر مسبوق سلام امام کے بعد بھول کر سلام پھیرے، تو اس پر اپنی نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرنالازم ہوتا ہے، کیونکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ منفر د ہو جاتا ہے اور منفرد پر اپنا سہو ہونے کی صورت میں سجدہ سہو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.