Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جانور ذبح کرتے وقت گردن زیادہ کٹنا الگ کرنا

Answer (beginning)

ذبح شرعی کے لیے جانور کی گردن میں موجود مکمل چار رگوں یا ان میں سے اکثر کا کٹ جانا ضروری ہے، اگر نصف یا اس سے کم رگیں کٹیں، تو جانور حلال نہیں ہو گا، چار رگوں کے نام یہ ہیں، (1) حلقوم، یعنی سانس والی نالی (2) مری، جس سے کھانا پانی اترتا ہے ، (4، 3) ورد جین، خون والی دور گئیں۔ ذبیح میں انہی چار رگوں کا کٹ جانا کافی ہے ، جان بوجھ کر اس سے زیادہ کا شنا منع ہے۔ اسی طرح عمد أجانور کو اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے، یا گردن توڑی جائے، مکروہ و ممنوع ہے کہ اس میں بلا ضرورت جانور کو ایذا دینا ہے، جبکہ حدیث مبارک میں ہمیں جانور کو آرام پہنچانے اور اس کو ناحق تکلیف نہ دینے کا حکم دیا گیا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.