Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی قربانی کے بجائے والد کی طرف سے قربانی کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
مذکورہ صورت میں اس شخص نے جتنی بھی قربانیاں اپنے والد صاحب کی طرف سے کیں، وہ سب اس کے والد صاحب کی طرف سے ہوئیں، لہذا یہ شخص ان قربانیوں کی وجہ سے بری الذمہ نہ ہوا، بلکہ یہ شخص اپنے او پر قربانی لازم ہونے کے باوجو د قربانی نہ کرنے سے گنہ گار ہوا، اس پر تو بہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ جتنے سال اس نے اپنی طرف سے واجب قربانی نہیں کی ہر سال کی قربانی کے بدلے ایک لائق قربانی بکری کی قیمت صدقہ کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.